نئی دہلی،05؍ مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ملازم منتخب کمیشن(ایس ایس سی)پیپر لیک اور امتحان میں دھاندلی کو لے کر طالب علموں کے مظاہرے کے بعد حکومت نے معاملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔بتا دیں کہ 27فروری سے بڑی تعداد میں ملک بھر سے آئے طالب علم ایس ایس سی پیپرلیک ہونے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔مظاہرہ کی دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بھی حمایت دیتے ہوئے سی بی آئی جانچ کی مانگ کی تھی۔معاملے کے سیاسی طول پکڑنے کے بعد آخر کار حکومت نے سی بی آئی جانچ کی منظوری دے دی ۔مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ مظاہرین طالب علموں کا مطالبہ مانتے ہوئے معاملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ طالب علم اب اپنا مظاہرہ واپس لے لیں گے۔سی بی آئی جانچ کے فیصلے پر بی جے پی رہنما منوج تیواری نے خوشی کا اظہار کیا۔ایس ایس سی کے باہر مظاہرہ کر رہے طالب علموں کا کہنا ہے کہ تحریری معلومات آنے کے بعد ہی مخالفت ختم کی جائے گی۔ادھر مرکزی وزیر جتندر سنگھ نے طالب علموں سے مظاہرہ واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے طالب علموں کا مطالبہ مان لیا ہے۔ہمارے رہنما میناکشی لیکھی اور منوج تیواری مسلسل طالب علموں کے رابطے میں تھے۔اب طالب علم بھی سمجھدار ہیں، پڑھے لکھے ہیں۔تحریری نوٹس آنے میں کچھ رسمی کارروائیاں ہوتی ہیں، جس میں وقت لگتا ہے۔امید کرتے ہیں کہ وہ اپنا مظاہرہ اب واپس لیں گے۔حالانکہ معاملے کو بڑھتا دیکھ کرایس ایس سی نے طالب علموں کو بات چیت کے لئے بلایا اور یقین دلایا کہ ان کے الزامات کی مکمل تحقیقات ہوگی اور اگر الزام صحیح ثابت پائے گئے تو مناسب کارروائی ہوگی۔تاہم اس یقین دہانی سے مظاہرین طالب علم مطمئن نہیں ہوئے اور سی بی آئی جانچ کی مانگ پر اڑے رہے۔طالب علموں کا الزام ہے کہ آن لائن ہونے والے اس امتحان میں نہ اسٹوڈنٹ اور نہ آڈیٹر تک کو قلم یا موبائل اندر لے جانے کی اجازت تھی۔اس کے باوجود سوشل میڈیا پر ایگزام کے دوران ہی سوالنامے کی اسکرین شاٹ وائرل ہو گئی تھی۔ریتیش کمار گپتا نے کہا کہ 21فروری کو ریاضی کا ایگزام تھا۔15 منٹ بعد اطلاع ملی کہ امتحان روک دیاگیا۔بحث تھی کہ سوشل میڈیا میں پیپر آؤٹ ہو چکے تھے۔